پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کا شہر اعتکاف میں تربیتی نشست سے خطاب
صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے شہرِ اعتکاف 2025ء کے پانچویں روز "آدابِ زندگی" قرآن و سنت اور تعلیماتِ اسلاف کی روشنی میں کے موضوع پر جاری لیکچر سیریز کا چوتھا درس دیا۔
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں اخلاقی اَقدار کو خاص اہمیت حاصل ہے، جو معاشرتی تعلقات کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ قرآنِ کریم میں رحمن کے پسندیدہ بندوں کی ایک نمایاں خوبی ان کی عاجزی اور انکساری بیان کی گئی ہے، جو معاشرتی زندگی کو سنوارنے کا ایک بنیادی اصول ہے۔
حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے مطابق "سلام" کا مفہوم دوسروں کے لیے سلامتی اور تحفظ کی دعا کرنا ہے۔ سلام، اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ایک ہے اور جنت کے ناموں میں سے بھی ایک ہے۔ علامہ ابن قیم فرماتے ہیں کہ سلام کہنا درحقیقت خیر و عافیت کی دعا مانگنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ اخلاقی اقدار کی عملی مثال امام حسین علیہ السلام کی سیرت سے ملتی
ہے۔ ایک موقع پر جب ایک بدو نے امام حسینؑ کے سامنے مولا علی علیہ السلام اور امام
حسنؑ کے متعلق نازیبا کلمات کہے تو آپؑ نے نہایت تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے
اسے نرمی سے جواب دیا۔ امام حسینؑ نے بدو سے کہا کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف ہے تو وہ
دور کرنے کو ہم تیار ہیں اور اگر کوئی مالی پریشانی ہے تو ہم مدد فراہم کر نے کو تیار
ہیں۔
بدو آپؑ کے کریمانہ اخلاق سے متاثر ہو کر شرمندہ ہوا۔ امام حسینؑ کے اس طرزِ عمل پر
جب کسی نے سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا کہ اس شخص نے وہ کیا جس کی تربیت اُسے اُس کے
والدین سے ملی اور میں وہ کر رہا ہوں جس کی تربیت مجھے میرے والدین سے ملی ہے۔
یہ واقعہ اسلامی اخلاقیات کی ایک درخشندہ مثال ہے، جو معاشرتی سطح پر باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں صبر، حلم، اور عفو و درگزر جیسے اوصاف اپنانے کا درس دیتی ہیں تاکہ ہم معاشرے میں بہترین کردار ادا کر سکیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ حضرت عبد اللہ بن سلام نے بیان کیا کہ جب حضور ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں بھی لوگوں کے ساتھ اُن کو دیکھنے گیا۔ جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ یہ چہرہ سچے انسان کا ہے۔ اُس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور جب لوگ سو جائیں تو تہجد پڑھا کرو، اِس طرح تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔"
یعنی اپنے تعلقاتِ معاشرہ امن پر قائم کرو۔ کوئی بھی معاشرہ، ملک، یا ثقافت ترقی نہیں کر سکتا اگر وہاں پر لوگوں کو بھوک اور خوف سے نجات میسر نہ آئے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دوسروں کی مدد کرنا بہت ضروری ہے۔ کسی کی ضرورت پوری کرنا، حوصلہ دینا، دکھ میں دلاسہ دینا، اور خوشی میں شریک ہونا بہترین انسانی اقدار میں شامل ہے۔ مدد صرف مالی امداد تک محدود نہیں، بلکہ ایک مسکراہٹ، نرم گفتگو اور خیرخواہی کے جذبات بھی کسی کے لیے امید کا سبب بن سکتے ہیں۔ جو معاشرہ ایثار، ہمدردی اور باہمی تعاون کو فروغ دیتا ہے، وہاں محبت، امن اور بھائی چارہ خود بخود پروان چڑھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک رکھو، پھر درجہ بدرجہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرو۔
سیدنا امام حسینؑ سب سے زیادہ رشتہ داروں کا خیال رکھنے والے تھے۔
صحابہ کرام کہتے ہیں کہ سب کا خیال کرنے والے امام حسینؑ تھے۔
جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں کے رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ بہت اپنے رویے نرم و امن والے بنا لیں اور باہمی امن وآمان والے بن جائیں اور اُن کے بھی حقوق کا خیال رکھیں۔
تبصرہ