اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم ﷺ کو مرکزِ کائنات اور محورِ تخلیق بنایا: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 29 اگست 2025ء

ذاتِ مصطفی ﷺ حیاتِ کائنات کی جان اور روح ہے: صدر منہاج القرآن

حضور نبی اکرم ﷺ پوری کائنات کی روح اور جان ہیں۔ آپ ﷺ ہی وہ مرکز و محور ہیں جن کے گرد یہ سارا نظامِ ہستی گردش کر رہا ہے۔ آپ ﷺ کی ذات کے نور سے ظلمتیں اجالوں میں بدلیں، وحشتیں سکون میں ڈھلیں اور جہالت کے اندھیروں میں علم و معرفت کے چراغ روشن ہوئے۔ درحقیقت، ذاتِ مصطفیٰ ﷺ ہی وجہِ تخلیقِ کائنات ہے، جیسا کہ حدیثِ قدسی میں ارشاد ہے: لولاک لما خلقتُ الأفلاک، یعنی اے محبوب! اگر آپ نہ ہوتے تو میں آسمان و زمین کو پیدا نہ کرتا۔ یہ حقیقت اس بات کی گواہ ہے کہ ساری کائنات آپ ﷺ کے وجودِ مسعود کی بدولت قائم ہے۔

آپ ﷺ کی ذات نہ صرف انسانیت بلکہ جن و ملک، ارض و سماء اور تمام مخلوقات کے لیے سراپا رحمت ہے۔ کائنات کے ذرے ذرے میں آپ ﷺ کی تجلی کی جھلک اور تخلیق کے ہر گوشے میں آپ ﷺ کے فیض کا پرتو نمایاں ہے۔ زمین پر زندگی کی رمق ہو یا آسمان پر کہکشاؤں کا حسن، دراصل یہ سب حضور ﷺ کی نسبت کا صدقہ ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کائنات کا حُسن آپ ﷺ کی جانِ جاں سے ہے، کائنات کی بقا آپ ﷺ کی وجہ سے ہے، اور کائنات کی اصل روح آپ ﷺ ہی ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ یہ کائنات اپنی حقیقت میں ایک خاموش نعت ہے، جس کی ہر دھڑکن اور ہر گردش حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کی عظمت کا اعلان کرتی ہے۔

حضور نبی اکرم ﷺ پوری کائنات کی روح اور جان ہیں

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے حضور نبی اکرم ﷺ کی ظاہری اور باطنی برکات پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ پوری کائنات اسی لیے حرکت میں ہے کہ اس کی اصل روح اور جان نورِ محمدی ﷺ ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب کسی مریض کا آپریشن کیا جاتا ہے تو اسے بے ہوشی کے لیے (Anesthesia) دے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد مریض کا جسم بے حس و حرکت ہو جاتا ہے اور جب وہ دوبارہ ہوش میں آتا ہے تو اسے پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کتنی دیر بے ہوش رہا۔ یعنی اس کے جسم کو وقتی طور پر ساکت کر دیا جاتا ہے اور پھر دوبارہ زندہ کر دیا جاتا ہے۔

اسی طرح معراج کی رات کا واقعہ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ اپنے محبوب ﷺ کو اپنی بارگاہ میں بلائے تو آپ ﷺ کو اس دنیا اور کائنات کی حدود سے اوپر اٹھا لیا گیا۔ چونکہ حضور ﷺ اس کائنات کی اصل روح ہیں، اس لیے آپ ﷺ کے تشریف لے جانے سے کائنات بھی ساکت ہوگئی۔ جو کُنڈی حرکت میں تھی وہ ویسی ہی رہ گئی، جو بستر گرم تھا وہ گرم ہی رہا۔ لوگ حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ لیکن حقیقت یہی تھی کہ کائنات کی جان وقتی طور پر اُس سے جدا کر دی گئی تھی، اس لیے سب کچھ ٹھہر گیا اور ساکت ہوگیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے تاجدارِ کائنات ﷺ کو واپس کائنات میں لوٹایا تو نظامِ کائنات دوبارہ چلنے لگا، وقت آگے بڑھنے لگا اور ساعتیں پھر سے رواں دواں ہو گئیں۔

قیامت سے پہلے کعبۃ اللہ کو دنیا سے اٹھا لیا جائے گا

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں قیامت سے پہلے کعبۃ اللہ کے اٹھائے جانے کے متعلق بیان کرتے ہوئے کہا کہ علامہ سیوطی نے بیان کیا ہے کہ:

إذا كان يوم القيامة رفع الله الكعبة البيت الحرام إلى بيت المقدس فمر بقبر النبي ﷺ بالمدينة فيقول السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته.

(سيوطي، الدر المنثور، ج1، ص 329)

جب قیامت کا دن آئے گا (اُس سے پہلے) اللہ تعالیٰ کعبۃ اللہ کو بیت المقدس کی طرف اٹھا لے جائے گا، اور کعبۃ اللہ کا گزر نبی اکرم ﷺ کی قبرِ انور کے پاس سے ہوگا تو کعبۃ اللہ کہے گا: یا رسول اللہ ﷺ، آپ پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی، اُس کی رحمتیں اور برکات ہوں۔

پھر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ: اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ کعبۃ اللہ کو کیوں اُٹھا لے گا اور روضۂ انور کو کیوں اُٹھا لے گا؟ اس کا راز یہ ہے کہ جب کائنات کو فنا کرنا مقصود ہوگا تو جس طرح انسان کی موت کے وقت اس کی روح نکال لی جاتی ہے، بالکل اسی طرح اس کائنات کے سینے میں حضور نبی اکرم ﷺ کا روضہ مبارک اس کی روح کی مانند ہے۔ جب اللہ تعالیٰ اس کائنات کو فنا کرنا چاہے گا تو سب سے پہلے اُس کی روح یعنی نورِ محمدی ﷺ کو دوسری کائنات میں منتقل فرما دے گا، پھر باقی کائنات کو فنا کرے گا۔

سب سے پہلے قبرِ اَنور سے اُٹھنے والے حضور نبی اکرم ﷺ ہوں گے

ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے بیان کیا کہ: احادیث میں آتا ہے کہ تاجدارِ کائنات ﷺ کو سب سے پہلے اُن کی قبرِ انور سے اٹھایا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

أَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ یَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ.

مسلم، الصحیح، ج2، ص 245، الرقم: 2278
ترمذی، السنن، ج2، ص143، الرقم: 3148
أبو داؤد، السنن، ج2، ص294، الرقم: 4673
أحمد بن حنبل، المسند، ج2، ص540، الرقم: 10985

میں قیامت کے دن (تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں گا، سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا، اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہوگی۔

اس حدیث کی ایک شرح یہ ہے کہ جب تاجدارِ کائنات ﷺ روزِ محشر میں جلوہ گر ہوں گے تو آپ ﷺ کے گناہگار امتیوں کے دلوں کو تسلی اور حوصلہ ملے گا۔ اس کی ایک اور شرح یہ بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اس کائنات کو فنا کرے گا تو اس کی روح یعنی حضور نبی اکرم ﷺ کو اس سے الگ فرما دے گا۔ پھر جب نئی کائنات میں محشر برپا کرنا ہوگا تو سب سے پہلے تاجدارِ کائنات ﷺ کو وہاں اس لیے لایا جائے گا کہ جسد اُس وقت تک زندہ نہیں ہو سکتا جب تک اُس کی روح نہ ہو۔ جس طرح آپ ﷺ اس دنیا کی روح ہیں، اسی طرح آپ ﷺ اُس جہان کی بھی روح ہوں گے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو اُس عالَم کی روح بنا کر پھونکے گا، یوں روزِ محشر بھی زندہ ہوگا اور جنتیں بھی آباد و زندہ ہوں گی۔

حاصلِ کلام

کائنات کی حقیقت یہ ہے کہ اس کی اصل جان اور مرکزِ بقا حضور نبی اکرم ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ ہی وہ نور ہیں جن کے وسیلے سے یہ نظامِ ہستی قائم ہے اور آپ ہی کی نسبت سے وقت و مکان اپنی روانی برقرار رکھتے ہیں۔ شبِ معراج کا واقعہ ہو یا قیامت کے دن کے مشاہدات، ہر مرحلہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ کائنات کا وجود آپ ﷺ کی موجودگی کا مرہونِ منت ہے۔ اسی نسبت سے قیامت سے پہلے بیت اللہ اور روضۂ انور کو اٹھا لیا جائے گا تاکہ دنیا کی روح کو دوسری کائنات میں منتقل کیا جا سکے۔ روزِ قیامت بھی سب سے پہلے قبرِ انور سے آپ ﷺ جلوہ گر ہوں گے اور آپ ﷺ ہی کی شفاعت سے انسانیت کو امید و نجات کا سہارا ملے گا۔ یوں دنیا ہو یا آخرت، حیات ہو یا بقا، ہر جہان کی اصل روح اور جان صرف حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top