میلاد النبی ﷺ منانا سنتِ نبوی سے ثابت ہے: شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
حضور ﷺ نے اپنا میلاد خود منایا ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی ﷺ ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا: شیخ الاسلام کا خطاب
میلاد النبی ﷺ منانا سنتِ نبوی سے ثابت ہے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار فرمایا۔ آپ ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرامؓ کو جمع کر کے بکرے ذبح فرمائے اور سب کو کھانا کھلایا۔ آپ ﷺ نے اس عمل کو "عقیقہ" فرمایا، مگر حقیقت میں وہ میلادِ مصطفی ﷺ کی خوشی کا لنگر تھا۔ جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے، اسی طرح ولادت کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے۔ یہ دراصل میلاد ہی کی خوشی کا اظہار تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ کا یہ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ میلاد مصطفی ﷺ منانا اور اس کی خوشی میں لنگر تقسیم کرنا براہِ راست سنتِ نبوی سے ثابت ہے۔
میلاد النبی منانا حضور ﷺ کی سنت ہے:
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے میلاد النبی ﷺ کے متعلق خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضور ﷺ نے اپنا میلاد خود منایا ہے۔ کوئی سلیم الفطرت شخص سنتِ مصطفی ﷺ ثابت ہو جانے کے بعد میلاد منانے کا انکار نہیں کر سکتا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد صحابہ کرام کو اکٹھا کر کے اپنی ولادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور اپنے میلاد کا لنگر اُن کو کھلایا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:
أن النبي ﷺ عق عن نفسه بعد النبوة.1 - طبرانی، المعجم الأوسط، ج1، ص 298، رقم: 994
2 - بیہقی، السنن الکبری، ج۹، ص 300، رقم: 19056
3 – مزي، تهذيب الكمال، ج16، ص 132
4 – ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، ج5، ص 340
بے شک حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی طرف سے عقیقہ کیا۔
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مزید بیان کیا کہ: اس حدیث کو امام بزار نے اپنی المسند میں اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں بھی روایت کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے تمام صحابہ کرام کو جمع کیا اور بکرے ذبح کیا اور تمام صحابہ کو لنگرِ میلاد کھیلایا۔
عقیقہ اور میلادِ مصطفی ﷺ کی حقیقت:
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ: بعض علماء کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جو بکرے ذبح کیے تھے وہ میلاد کے نہیں بلکہ عقیقہ کے تھے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بکرے میلاد کے موقع پر نہیں بلکہ عقیقہ کے طور پر ذبح کیے گئے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ عقیقہ کس موقع پر کیا جاتا ہے؟ کیا عقیقہ وفات پر ہوتا ہے یا ولادت پر؟ ظاہر ہے عقیقہ ولادت کی خوشی میں کیا جاتا ہے۔
لہٰذا کوئی چاہے اسے میلاد مانے یا عقیقہ، حقیقت یہ ہے کہ عقیقہ بھی میلاد (ولادت) کی خوشی کا کھانا ہے۔ جیسے ولیمہ شادی کی خوشی کا کھانا ہوتا ہے، اسی طرح عقیقہ ولادت کی خوشی کا کھانا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ:
لما ولد النبي ﷺ عق عنه عبد المطلب بكبش وسماه محمدا.1 - ابن عساكر، تاريخ مدينة دمشق، ج3، ص 32
2 – سيوطي، الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188
جب حضور نبی اکرم ﷺ کی ولادتِ با سعادت ہوئی تو آپ کی طرف سے آپ کے دادا عبد المطلب نے ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور آپ ﷺ کا نام محمد ﷺ رکھا۔
امام سیوطی لکھتے ہیں کہ:
أن جده عبد المطلب عق عنه في سابع ولادته والعقيقة۔سيوطي، الحاوي للفتاوي، ج1، ص 188
بے شک آپ ﷺ کے دادا عبد المطلب نے آپ ﷺ کی ولادت کے ساتویں روز آپ کی طرف سے عقیقہ کر دیا تھا۔
اس کے بعد شیخ الاسلام عقیقہ کے متعلق مزید احادیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امام ابو داود اپنی السنن میں اور امام ترمذی اپنی السنن میں روایات نقل کرتے ہیں۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآله وسلم نے فرمایا:
كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى.أبو داود، السنن، ج3، ص 106، رقم: 2837
ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے۔
امام ترمذی یہی روایت اپنی السنن میں نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْغُلَامُ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ يُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُسَمَّى وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ.ترمذی، السنن، ج4، ص 101، رقم: 1522
ہر بچہ عقیقہ کے بدلے گروی رکھا ہوا ہے، پیدائش کے ساتویں دن اس کا عقیقہ کیا جائے، اس کا نام رکھا جائے اور اس کے سر کے بال منڈائے جائیں۔
حضور ﷺ کی احادیث میں عقیقہ کے بارے میں یہ ہدایت ہے کہ اگر ساتویں دن عقیقہ نہ ہو سکے تو چودھویں دن کیا جائے، اور اگر چودھویں دن بھی نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کیا جائے۔ یہ دن عقیقے کے لیے مقرر ہیں۔ حضور ﷺ کا عقیقہ آپ کی ولادت کے ساتویں دن ہو گیا تھا۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ساتواں دن، چودھواں دن اور اکیسواں دن سب گزر گئے تو پھر چالیس سال بعد اعلانِ نبوت کے بعد دوبارہ عقیقہ کرنے کا کیا مطلب؟ اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ شاید حضور ﷺ نے یہ سوچا ہو کہ میرا پہلا عقیقہ بعثت سے پہلے جاہلیت کے دور میں ہوا تھا، اس لیے اب نبوت کے بعد اپنی شریعت کے مطابق دوبارہ عقیقہ کروں۔ تو اس خیال کا بھی میں جواب دینا چاہتا ہوں۔
یہ محض ایک گمان ہے کہ شاید حضور ﷺ نے چاہا ہو کہ بعثت کے بعد اپنی شریعت میں اس عمل کو دوبارہ ادا کریں۔
سنو! اگر بعثت سے پہلے دورِ جاہلیت کا کوئی عمل ناجائز ہو جاتا (معاذ اللہ) اور اسے دہرانا ضروری ہوتا، تو سب سے پہلے نکاح دہرانا لازمی تھا۔ کیونکہ حضور ﷺ کا حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح بعثت سے پندرہ سال پہلے ہوا تھا۔ اسی نکاح سے سیدہ فاطمہؑ، حضرت رقیہؓ، حضرت زینبؓ، حضرت ام کلثومؓ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت قاسمؑ اور طیب و طاہرؑ پیدا ہوئے۔
جب اعلانِ نبوت ہوا تو وہ نکاح تو دوبارہ نہیں کیا گیا، تو پھر عقیقہ دہرانے کی ضرورت کیسے پیش آ سکتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ کے نکاح کا مہر حضرت ابو طالب علیہ السلام نے ادا کیا:
رحمت عالَم حضور نبی اکرم ﷺ کا مبارک نکاح جب سیدہ خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا سے ہوا تو اس نکاح کا مہر بھی حضرت ابو طالب علیہ السلام نے ادا کیا تھا۔ جو لوگ حضرت ابو طالبؓ کے بارے میں بدگمانی یا بد اعتقادی رکھتے ہیں، وہ سمجھ لیں کہ اگر وہ بارگاہِ مصطفی ﷺ میں مقبول نہ ہوتے تو آقا ﷺ اپنے نکاح میں ان کا دیا ہوا مہر قبول نہ فرماتے۔ حضرت ابو طالبؓ نے اپنی جیب سے مہر ادا کیا اور اسی نکاح سے ساری آلِ رسول ﷺ پیدا ہوئی۔
حضور نبی اکرم ﷺ نے حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے نکاح کا اعادہ نہیں کیا، تو پھر عقیقے کا اعادہ اس سے زیادہ ضروری کیسے ہو سکتا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے "عقیقہ" کہا گیا ہے وہ دراصل کھانا ہے، یعنی بکرے ذبح کر کے صدقہ و خیرات اور خوشی کے اظہار کے لیے کھانا کھلانا۔
شادی کی خوشی کا کھانا "ولیمہ" کہلاتا ہے اور ولادت (میلاد) کی خوشی کا کھانا "عقیقہ" کہلاتا ہے۔ چنانچہ اعلانِ نبوت کے بعد حضور ﷺ نے تمام صحابہؓ کو جمع فرمایا اور اپنی شریعت اور سنت میں اپنے میلاد کی خوشی کا لنگر کھلا کر قیامت تک کے لیے میلادِ مصطفی ﷺ منانا سنت بنا دیا۔
حاصلِ کلام:
میلادِ مصطفی ﷺ کے جواز اور اس کے سنت ہونے پر خود سیرتِ نبوی روشن دلیل ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلانِ نبوت کے بعد اپنی ولادتِ باسعادت کی خوشی میں بکرے ذبح کیے اور صحابہ کرامؓ کو لنگر عطا فرمایا۔ اسے اگر کوئی عقیقہ کہے تو بھی حقیقت یہی ہے کہ عقیقہ دراصل میلاد (یعنی ولادت) ہی کی خوشی کا کھانا ہے، جیسے نکاح کی خوشی کا کھانا ولیمہ کہلاتا ہے۔ اس عمل سے یہ اَمر قطعی طور پر ثابت ہوا کہ حضور ﷺ نے اپنی سنت اور اپنی شریعت میں میلاد کی مسرت کو عملی صورت بخشی۔ جس سے یہ واضح ہوا کہ عقیقے کے نام پر جو لنگر دیا گیا وہ دراصل میلادِ مصطفی ﷺ کا جشن تھا۔ یوں میلاد منانا فقط مباح نہیں بلکہ عین سنتِ نبوی ہے، اور اس کی اصل خود حضور ﷺ کا اپنے میلاد کی خوشی کا اظہار ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)
تبصرہ