سوشل میڈیا کے ذریعے ہم سے رابطہ میں رہنے کے لئے حسب ذیل لنکس ملاحظہ کر یں۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مینار پاکستان پر 20 لاکھ لوگوں سے زائد کے تاریخ ساز عوامی جلسے میں خطاب کرتے ہوئے نظام درست کرنے کے لیے حکومت کو 10 جنوری کی مہلت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر آئین و قانون کے مطابق پاکستان کا کرپٹ اور فرسودہ نظام درست کرنے کے لیے جو مطالبات انہوں نے پیش کیے ہیں، انہیں نہ مانا گیا تو پھر 14 جنوری کو اسلام آباد کی سڑکوں پر پرامن احتجاجی مارچ ہوگا۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اڑھائی بجے اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے تو لاکھوں افراد نے کھڑے ہو کر نعروں کی گونج میں ان کا والہانہ پرجوش اور تاریخی استقبال کیا۔ اپنے محبوب قائد کی ایک جھلک دیکھ کر دیوانے جھوم اٹھے، جبکہ فضا استقبال کے لیے چھوڑے گئے غباروں سے رنگین ہو گئی۔ طویل انتظار کے بعد جب کارکنان نے اپنے محبوب قائد کو دیکھا تو ضبط کے سب بندھن ٹوٹ گئے۔
لاہور کی سڑکوں پر تا حد نگاہ انسانوں کا سمندر دیکھائی دیتا ہے۔ قومی پرچم 23 مارچ 1940ء کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ جلسے میں عوامی کی شرکت فرسودہ نظام سیاست سے بیزاری کا واضع اعلان ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ باقی نہ رہی۔
سڑکوں پر تا حد نگاہ انسانوں کا سمندر دکھائی دیتا ہے۔ صبح سے پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے مگر عوام کا ٹھاٹھے مارتا سمندر تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ لاکھوں کی تعداد میں لوگ تاریخی جلسے میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔ لاہور کی سڑکیں تنگی داماں کا شکوہ کرتی نظر آ رہی ہیں۔ عوام کا جوش و خروش فرسودہ نظام سیاست کے علمداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے عظیم الشان عوامی استقبال جلسے میں 22 دسمبر کو بھی لاکھوں شرکاء کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسرے روز صوبہ سندھ سمیت، خیبر پختون خواہ اور بلوچستان سے لوگ عوامی استقبال جلسے کے لیے مینار پاکستان پہنچے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے تاریخی عوامی استقبال کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے جلسے کا باقاعدہ آغاز 23 دسمبر 2012ء کی صبح 8 بجے ہو گیا۔ پروگرام کے پہلے حصہ کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا۔ جس کی کارروائی جاری ہے۔ تاریخ کے سب سے بڑے جلسے میں شرکت کے لیے لاکھوں شرکاء پنڈال میں پہنچ چکے ہیں۔ مینار پاکستان کے سبزہ زار مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ دوسری جانب لاہور ڈویژن، فیصل آباد ڈویژن، گوجرانوالہ ڈویژن، شیخوپورہ، قصور، پتوکی اور تمام نزدیکی شہروں سے قافلوں کی آمد کاسلسلہ اب بھی جاری ہے۔ لاکھوں لوگوں کی آمد کے پیش نظر انتظامیہ نے مینار پاکستان کے چاروں اطراف پنڈال بنادیا ہے۔
21 دسمبر کی صبح کو ہزاروں شرکاء کی آمد کا سلسلہ ہوا، جو شام تک لاکھوں کی تعداد میں پہنچ گیا۔ پہلے روز مینار پاکستان کے اردگرد ملحقہ سٹرکوں پر سکیورٹی اور ٹریفک کے انتہائی منظم انتظامات کیے گئے۔ داتا دربار، اسٹیشن، لاری اڈہ، شاہدرہ سمیت ہر طرف سے آنے والے قافلوں کو مینار پاکستان تک پہنچنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ٹریفک کے بہترین انتظامات میں سٹی ٹریفک پولیس، جبکہ قافلوں میں آنے والی ہزاروں بسوں کی پارکنگ میں منہاج القرآن کی انتطامیہ نے نہایت اہم کردار ادا کیا۔
تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے صدر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری ڈاکٹریٹ مکمل کرنے کے بعد مصر سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی وطن واپسی پر مرکزی سیکرٹریٹ کے اسٹاف کے ساتھ خصوصی ملاقات کی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، سینئر نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض، سیکرٹری ٹو پیٹرن انچیف جی ایم ملک، ناظم امور خارجہ راجہ جمیل اجمل سمیت تمام شعبہ جات کے ناظمین اور مرکزی اسٹاف نے شرکت کی۔
ڈاکٹر رحیق احمد عباسی نے کہا کہ 23 دسمبر حقیقت میں نیا 14 اگست 1947 ہو گا اور 23 مارچ 1940 کی یاد بھی تازہ ہو جائے گی۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ریاست بچانے کیلئے جس مکمل ایجنڈے کا اعلان کریں گے وہ 19 کروڑ عوام پر مشتمل مختلف طبقات کے دل کی آواز ہو گا۔ قائداعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پاکستان کی تشکیل کی جدوجہد کے آغاز میں صرف 4 روز باقی ہیں۔ اور ہر کان مینار پاکستان میں ابھرنے والی ڈاکٹر طاہرالقادری کی آواز کو سننے کیلئے بے تاب ہے۔
مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ سسٹرز کی صدر شاکرہ چوہدری نے کہا کہ فلسفہ شہادت ’’حسین منی وانامن حسین‘‘ بچپن سےکربلا تک حسین مصطفے سے ہیں اور کربلا سے آج تک مصطفے حسین سے ہیں۔ کربلا میں جس قدر شجاعت، دلیری، توحید کی عظمت حتی کہ مقدس خون سے ایسی آبیاری کی جو رہتی دنیا تک کے لیے تمام بنی نوع انسان کو حیات ابدی کا اصول پہنچایا ہے۔ ان کی یزیدی نظام کے خلاف جنگ ذاتی مفادات کی غرض سے نہیں بلکہ سرور کائنات حرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نظام کی بالا دستی کے لیے تھی۔
صدر مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ سسٹرز محترمہ شاکرہ چوہدری نے کہا کہ موجودہ نظام انتخاب جمہوریت نہیں بلکہ مجبوریت ہے جس کے تحت 66 برسوں سے جاگیردار، سرمایہ دار، لٹیرے اس مملکت خداداد کو لوٹ رہے ہیں۔ جنہوں نے آج تک اس قوم کو ذلت کی گہرائیوں میں دھکیل دیاہے۔ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کے سروں سے چادر کھینچ لی ہے۔ بیٹیوں کی زندگیاں چھین لی ہیں۔ طلبہ و طالبات کا مستقبل تباہ ہو چکا ہے۔
مورخہ 14 دسمبر 2012ء بروز جمعۃ المبارک کو منہاج القرآن ویمن لیگ کی مرکزی کمیٹی برائے عوامی استقبال نے 23 دسمبر کو ہونے والے سیاست نہیں ریاست بچاؤ عوامی اجتماع کے حوالے سے مینار پاکستان کا وزٹ کیا، اس وزٹ میں سدرہ کرامت نائب سربراہ عوامی استقبال کمیٹی، عائشہ شبیر سربراہ پنڈال کمیٹی، انیلا الیاس ڈوگر سیکرٹر ی پنڈال کمیٹی اور شما ئلہ عباس ڈپٹی سیکرٹر ی پنڈال کمیٹی شامل تھیں۔
منہاج القرآن ویمن لیگ چکوال کی سسٹرز ٹیم نے 23 دسمبر کے اجتماع کے لیے ڈور ٹو ڈور دعوتی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جو تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلہ میں ویمن لیگ کی سسٹرز علاقہ میں گھر گھر جا کر خواتین کو 23 دسمبر 2012ء کے جلسہ اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے استقبال کی دعوت دے رہی ہیں۔
منہاج القرآن ویمن لیگ لاہور کی صدر ارشاد اقبال نے کہا ہے کہ تبدیلی کیلئے حوا کی بیٹیاں بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں اب موجودہ فرسودہ اور کرپٹ انتخابی نظام کو دفن کر کے دم لیں گے۔ 23 دسمبر کا سورج ملک میں تبدیلی کی نوید لے کر طلوع ہو گا اور 23 دسمبر 23 مارچ کی طرح تاریخ میں امر ہو جائے گا۔ یہ دن فیصلہ کر دے گا کہ پاکستانی قوم کا حقیقی لیڈر کون ہے؟ کچن کے ٹھنڈے چولہے روشن ہوں گے اور بنیادی ضروریات تعلیم، روزگار اور صحت کا حق ہر کسی کو ملے گا۔
تحریک منہاج القرآن کی سپریم کونسل کے صدر ڈاکٹر حسن محی الدین القادری نے کہا ہے کہ 23 دسمبر کو پورے ملک سے عوام کا سیلاب مینار پاکستان پہنچے گا جو تاریخ پاکستان کا سب سے بڑا پرامن اجتماع ہو گا۔ لاہور کے غیور عوام لاکھوں کی تعداد میں مینار پاکستان پہنچ کر عوام پاکستان کی میزبانی کا حق ادا کریں گے۔ نئے سال کا سورج ملکی استحکام اور عوامی خوشحالی کا پیغام لے کر طلوع ہو گا۔
4M
فیس بک
2M
ٹوٹر
© 1994 - 2025 Minhaj-ul-Quran International.